Skip to main content

دو سال قبل اغوا ہونے والا نوجوان بازیاب نہ ہوسکا ، والدہ کا شدید احتجاج

لگتے جگر کی جدائی کے غم میں ماں نے اپنا ذہنی توازن بھی کھو دیا، ملزمان نے بیٹے کے اغوا کاانکشاف بھی کیا لیکن دو سال گزرگئے بیٹا آزاد نہ ہوسکا.والد

بالا حکام اور جیف جسٹس آف پاکستان سے التجا ہے کہ ہمارے لگتے جگر کو آزاد کروائے۔والدہ

 

محراب پور (رپورٹ: مبشر گھمن )دوسال قبل پیر وتو کا مکین شادی شدہ نوجوان کرشن اچانک لاپتہ ہوگیا تھاجس کا اب تک کوئی بھی سوراغ نہیں لگ سکا، لگتے جگرکی جدائی میں رو رو کر ماں نے اپنا ذہنی توازن بھی کھودیا، لاپتہ نوجوان کے والدین بیٹے کی تلاش میں احتجاج کرنے کوٹری کبیر پریس کلب پہنچ گئے جہاں انہوں نے عشکواری کے عالم میں احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ دو سال قبل مقامی بااثر افراد جیسومل، روشو عرف کھوسو ماڑیچہ اور پربھو ماڑیچے نے پیسے دینے کے بہانے قاضی کے ٹیوب ویل (اکبر آباد)کے مقام پربلاکر ہمارے بیٹے کشن کو اغوا کرلیا ، مغوی کے والد بھونرو مل نے مزید بتایا کہ بیٹے کے اغواکا مقدمہ میں نے ہالانی تھانے پر جیسومل، روشو عرف کھوسو ماڑیچہ اور پربھو ماڑیچے کے خلاف درج کروایا تھا جس کے بعد پولیس نے ان بااثر افراد کو گرفتار کیا تھاجبکہ پولیس کے سامنے ملزمان نے انکشاف بھی کیا کے کرشن کو ہم نے اغوا کیا ہے جسے ہم دو دنوں میں آزاد کردیں گے، لیکن پولیس نے مغوی کو آزاد کروانے کی بجائے، ملوث افراد سے بھاری رشوت لیکر انہیں رہا کردیا، جبکہ مغوی کی والدہ مومل نے عشکوارآنکھوں سے بتایا کہ دو سالوں سے بیٹے کی جدائی نے ہمیں بے حال کردیا ہے، ملوث افراد اور پولیس نے ہمارے ساتھ بڑا ظلم اور ناانصافی کی ہے، بالاحکام اور چیف جسٹس آف پاکستان سے ہماری التجا ہے کہ وہ ہمارے بیٹے کو جلد از جلد بازیاب کروائے۔


Comments